
نئی دہلی: کانگریس نے جمعرات کے روز مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور جی ڈی پی شرحِ نمو کے اعداد و شمار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے ہم آہنگ (انفلیشن ایڈجسٹڈ) جی ڈی پی گروتھ ریٹ کے جو بڑے بڑے اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں، وہ ملک کی معیشت کی اصل تصویر نہیں دکھاتے بلکہ عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے کمیونیکیشن انچارج جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ مہنگائی کو مدنظر رکھ کر جو جی ڈی پی شرحِ نمو بتائی جا رہی ہے، وہ گمراہ کن ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر اس لیے دکھایا جا رہا ہے کیونکہ جن پرائس ڈیفلیٹرز (قیمتوں کے ایڈجسٹمنٹ کے پیمانے) کا استعمال کیا گیا ہے، وہ غیر معمولی طور پر بہت کم ہیں۔
جے رام رمیش نے کہا، “مہنگائی سے ہم آہنگ جی ڈی پی شرحِ نمو کے سرخیوں میں آنے والے اعداد و شمار دھوکہ دینے والے ہیں۔ جب پرائس ڈیفلیٹرز بہت کم رکھے جاتے ہیں تو فطری طور پر گروتھ ریٹ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔”
ان کے مطابق حکومت ان اعداد و شمار کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتی ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کم پرائس ڈیفلیٹرز دراصل کمزور صارف طلب (کنزیومر ڈیمانڈ) کی علامت ہیں۔ رمیش نے کہا، ’’کم قیمتوں کے اعداد و شمار حکومت کے لیے خوشی کی بات ہو سکتے ہیں، لیکن اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ عام لوگوں کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ آمدنی میں اضافہ صرف سماج کے بالائی طبقے تک محدود ہے، جبکہ باقی آبادی کی آمدنی جمود کا شکار ہے۔”
کانگریس کا کارپوریٹ سیکٹر کی صورتحال پر سوال
کانگریس لیڈر نے کارپوریٹ سیکٹر کی صورتحال پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی بڑی کمپنیوں کے پاس بھاری مقدار میں نقدی موجود ہے۔ کارپوریٹ انڈیا کے پاس ریکارڈ سطح کا کیش ہے، منافع بھی ریکارڈ بلندی پر ہے اور قرض تاریخی طور پر سب سے کم سطح پر ہے۔ اس کے باوجود کمپنیاں نئی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں توسیع میں دلچسپی نہیں دکھا رہی ہیں۔
سرمایہ کاری ماحول کو بڑے ’بوسٹر ڈوز‘ کی ضرورت
جے رام رمیش نے کہا کہ آنے والے مرکزی بجٹ کو اس سوال کا براہِ راست جواب دینا چاہیے کہ کمپنیاں پیداوار بڑھانے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مالیاتی منڈیوں میں اثاثہ جات کے انتظام پر زیادہ توجہ کیوں دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے سرمایہ کاری ماحول کو ایک بڑے “بوسٹر ڈوز” کی ضرورت ہے۔
جے رام رمیش نے حکومت کی پالیسی پر کی تنقید
انہوں نے حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریٹ ٹیکس میں مسلسل کی گئی کٹوتیاں بھی طلب بڑھانے میں ناکام رہی ہیں۔ ٹیکس میں کمی کا پورا سلسلہ مانگ میں اضافہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ مسئلہ صرف بجٹ یا ٹیکس پالیسی تک محدود نہیں بلکہ یہ حکومت کے پورے سیاسی و معاشی ماڈل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مارکیٹ اجارہ داری اور حکومت کی سرپرستی نجی سرمایہ کاری اور صحت مند مسابقت کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر ملک کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔







