![]()
نئی دہلی: بدھ کی صبح دہلی اور قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) کے کئی علاقوں میں گھنی دھند چھا گئی، جس کے باعث حد نگاہ میں شدید کمی واقع ہوئی اور اہم سڑکوں پر معمول کی آمد و رفت متاثر رہی۔ غازی آباد کے اندراپورم، نوئیڈا کے بوٹینیکل گارڈن میٹرو اسٹیشن اور دہلی کے اکشردھام علاقے سے موصولہ مناظر میں سڑکوں اور رہائشی علاقوں پر دھند کی موٹی تہہ دیکھی گئی۔ کم حد نگاہ کے باعث گاڑیاں انتہائی سست رفتاری سے چلتی نظر آئیں۔ نوئیڈا کے مختلف علاقوں میں بھی یہی صورتحال رہی، جس سے صبح کے وقت دفتر جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
فضائی آلودگی خطرناک سطح پر
سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (CPCB) کے اعداد و شمار کے مطابق صبح 7 بجے دہلی کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 384 ریکارڈ کیا گیا، جو ’انتہائی خراب سے شدید‘ زمرے میں آتا ہے۔ شہر کے کئی مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر اے کیو آئی خطرناک سطح پر رہا:
آنند وہار: 452
آئی ٹی او: 426
آر کے پورم: 411
چاندنی چوک: 419
دوارکا سیکٹر-8: 414
یہ تمام علاقے ’شدید‘ آلودگی کے زمرے میں شامل ہیں۔ کچھ علاقوں میں اگرچہ سطح نسبتاً کم رہی، لیکن اب بھی صحت کے لیے خطرناک تھی:
اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ٹرمینل-3): 334
نجف گڑھ: 331
آیا نگر: 321
یہ علاقے ’انتہائی خراب‘ زمرے میں درج کیے گئے۔
فضائی پروازیں متاثر، CAT-III پروٹوکول نافذ
گھنے کہرے اور دھند کے باعث اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں CAT-III حالات کے تحت چلائی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے تاخیر اور منسوخی کا سلسلہ جاری ہے۔ دہلی ایئرپورٹ انتظامیہ نے ایک ایڈوائزری میں کہا کہ کم حدِ نگاہ کے باوجود مسافروں کی سہولت کے لیے گراؤنڈ ٹیمیں تعینات ہیں اور فعال طور پر مدد فراہم کر رہی ہیں۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی تازہ معلومات کے لیے متعلقہ ایئرلائنز سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا: ’’موجودہ گھنے کہرے کے باعث پروازیں CAT-III پروٹوکول کے تحت چلائی جا رہی ہیں، جس سے تاخیر یا منسوخی ہو سکتی ہے۔ ہماری ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور مسافروں کی سہولت کے لیے سرگرم ہیں۔ ہونے والی زحمت کے لیے ہمیں افسوس ہے۔‘‘
ریل خدمات بھی متاثر
دھند کے باعث ریل خدمات بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ کم حد نگاہ کے سبب متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار رہیں۔ قومی دارالحکومت کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر مسافر ٹرینوں کے انتظار میں کھڑے نظر آئے، جبکہ ٹرینوں کی رفتار سست رہی۔







