
مبئی: بہار میں ’حجاب تنازع‘ شدت اختیار کر گیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 15 دسمبر کو آیوش ڈاکٹروں کو تقرری نامے تقسیم کرنے کے پروگرام کے دوران ایک خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کا حجاب ہٹا دیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد تنازع نے زور پکڑ لیا۔
آمرپالی دوبے نے ظاہر کی اپنی رائے
اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا، جبکہ این ڈی اے کے کچھ لیڈران اس واقعے کا دفاع کرتے نظر آئے۔ اسی دوران اس تنازع پر بھوجپوری فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ آمرپالی دوبے نے بھی اپنی رائے ظاہر کی۔
دوسروں کے جذبات کا احترام ضروری
آمرپالی دوبے نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ کپڑے پہننا ہر شخص کی ذاتی پسند کا حصہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی کی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو اس کے خلاف مناسب کارروائی ہونی چاہیے۔ کسی بھی حالت میں دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا ضروری ہے۔‘‘
خاتون سے بلا شرط معافی مانگنی چاہیے
آمرپالی دوبے سے قبل حجاب تنازع پر معروف ادیب اور شاعر جاوید اختر نے بھی اس واقعے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اس خاتون سے بلا شرط معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’جو لوگ مجھے تھوڑا بہت بھی جانتے ہیں، وہ یہ بات جانتے ہیں کہ میں پردے کے روایتی تصور کے کتنا خلاف ہوں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں یہ تسلیم کر لوں کہ نتیش کمار نے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جو کیا، وہ درست تھا۔ میں اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اس خاتون سے بلا شرط معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
نتیش نے خاتون کے چہرے سے ہٹایا حجاب
درحقیقت، یہ تنازع بہار کے آیوش ڈاکٹر تقرری پروگرام کے دوران شروع ہوا، جب ایک مسلم خاتون ڈاکٹر حجاب پہن کر تقرری نامہ لینے آئی تھیں۔ اسی دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے خاتون کے چہرے سے حجاب ہٹا دیا۔ اس واقعے کی ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد یہ سوال اٹھنے لگے کہ کیا حجاب پہننا سرکاری قواعد کے مطابق ہے یا نہیں۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے استعفے کا مطالبہ
یہ تنازع صرف بہار تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک اور بیرونِ ملک بھی بحث کا موضوع بن گیا۔ بہار کی اپوزیشن جماعتوں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس نے بھی نتیش کمار کو نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کر دیا۔







