
نئی دہلی: مرکزی کابینہ نے بدھ کے روز دہلی میٹرو ریل پروجیکٹ کے فیز–IV اے کو منظوری دے دی، جس کے تحت قومی دارالحکومت کے ماس ریپڈ ٹرانزٹ نیٹ ورک میں نمایاں توسیع کی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 13 نئے اسٹیشن تعمیر کیے جائیں گے، جن میں 10 زیر زمین اور 3 بلند (ایلویٹڈ) اسٹیشن شامل ہیں۔ اس مرحلے کو تین برس کی مدت میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
منصوبے کی لاگت اور توسیع
مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کابینہ کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میٹرو نے شہر کے رہائشیوں اور یہاں آنے جانے والوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی پیدا کی ہے اور اس نئی توسیع کے ساتھ دہلی میٹرو میں ایک نیا باب جُڑ جائے گا۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے 12,015 کروڑ روپے کے منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ فیز–IV اے کے تحت میٹرو نیٹ ورک میں 16 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا، جس کے بعد دہلی میٹرو کی مجموعی لمبائی 400 کلومیٹر سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔
تین اہم کوریڈورز شامل
یہ توسیعی منصوبہ تین بڑے کوریڈورز پر مشتمل ہوگا۔ رام کرشن آشرم مارگ تا اندراپرستھ کوریڈور کی لمبائی 9.9 کلومیٹر ہوگی، جس پر 9,570.4 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ ایروسیٹی تا ایئرپورٹ ٹرمینل–1 کوریڈور 2.3 کلومیٹر پر محیط ہوگا، جس کی لاگت 1,419.6 کروڑ روپے بتائی گئی ہے، جبکہ تغلق آباد تا کالندی کنج کوریڈور 3.9 کلومیٹر کا ہوگا اور اس پر 1,024.8 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
شہری آمد و رفت میں مزید سہولت
منصوبے کی تکمیل کے بعد دہلی میں کنکٹیوٹی بہتر ہونے، ٹریفک کے دباؤ میں کمی آنے اور ماحول دوست شہری ٹرانسپورٹ کو فروغ ملنے کی امید ہے۔ حکام کے مطابق یہ توسیع نیشنل کیپیٹل ریجن میں شہری آمد و رفت کو مزید مضبوط بنائے گی۔
دہلی میٹرو کے 23 سال مکمل
اسی روز دہلی میٹرو نے اپنی خدمات کے 23 سال مکمل کیے۔ اس وقت دہلی میٹرو نیٹ ورک 352 کلومیٹر سے زائد پھیل چکا ہے اور اس میں 10 لائنوں پر 257 اسٹیشن شامل ہیں، جن میں ایئرپورٹ لائن بھی موجود ہے۔
ڈی ایم آر سی کو اعزاز
دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) کو حال ہی میں آئی سی آئی ایوارڈز 2025 کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز موجپور تا مجلس پارک کوریڈور کے لیے دیا گیا، جو فیز–IV کا ایک اہم حصہ ہے اور پنک لائن کی توسیع کے طور پر کام کرے گا۔ اس کوریڈور کی تکمیل کے بعد دہلی میں ملک کی پہلی سرکلر رنگ میٹرو لائن وجود میں آئے گی، جو دارالحکومت میں کنکٹیوٹی اور شہری نقل و حمل کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔






