
ادیس ابابا / نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایتھوپیائی ہم منصب وزیراعظم ابی احمد علی کو اے آئی امپیکٹ سمٹ اور برکس سمٹ میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق بھارت 2026 میں اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کرے گا اور یکم جنوری 2026 سے ایک سال کے لیے برکس گروپ کی صدارت بھی سنبھالے گا۔
برکس کی صدارت 2026 میں بھارت کے پاس
وزارت خارجہ کے اقتصادی امور کے سکریٹری سدھاکر دلیلا نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم مودی نے ایتھوپیا کے وزیراعظم کو ان دونوں عالمی فورمز میں شرکت کی دعوت دی ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی قیادت اور گلوبل ساؤتھ میں اس کے مضبوط کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
ایتھوپیائی پارلیمنٹ سے تاریخی خطاب
وزیراعظم مودی نے اپنے دورۂ ایتھوپیا کے دوران ملک کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا، جہاں ارکان پارلیمنٹ نے تالیاں بجا کر ان کا پُرجوش استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور متعدد سینئر رہنماؤں سے ملاقات بھی کی۔ خطاب کے دوران وزیرِاعظم مودی نے کہا: ’’آج آپ کے سامنے کھڑا ہونا میرے لیے بڑے فخر کی بات ہے۔ شیروں کی سرزمین ایتھوپیا میں آ کر مجھے اپنے گھر جیسا احساس ہو رہا ہے، کیونکہ میرا آبائی صوبہ گجرات بھی شیروں کی دھرتی ہے۔‘‘
جمہوریت اور عوام کے لیے احترام
وزیراعظم نے کہا کہ وہ جمہوریت کے اس مقدس ایوان میں قدیم دانش اور جدید امیدوں کے ساتھ آ کر خود کو معزز محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: ’’میں آپ کی پارلیمنٹ، آپ کے عوام اور آپ کے جمہوری سفر کے لیے گہرے احترام کے ساتھ یہاں آیا ہوں۔ بھارت کے ایک ارب چالیس کروڑ عوام کی جانب سے میں دوستی، خیرسگالی اور بھائی چارے کا پیغام لایا ہوں۔‘‘
اعلیٰ ترین اعزاز پر اظہارتشکر
ایتھوپیا کے اعلیٰ ترین قومی اعزاز پر اظہار تشکر کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا: ’’میں بھارت کے عوام کی جانب سے انتہائی انکساری کے ساتھ یہ اعزاز قبول کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے ایتھوپیا کو انسانی تاریخ کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تاریخ پہاڑوں، وادیوں اور عوام کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔
ایتھوپیا کی اصل طاقت
وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج ایتھوپیا اس لیے مضبوطی سے کھڑا ہے کیونکہ اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ان کے مطابق: ’’ایتھوپیا میں کھڑا ہونا اس مقام پر کھڑا ہونا ہے جہاں ماضی کا احترام کیا جاتا ہے، حال مقصد سے بھرپور ہے اور مستقبل کا کھلے دل سے استقبال کیا جاتا ہے۔ قدیم اور جدید کے درمیان توازن ہی ایتھوپیا کی اصل طاقت ہے۔‘‘







