
نئی دہلی: لوک سبھا میں پیر کو ’وَندے ماترم‘ کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر جاری خصوصی بحث میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گگوئی نے کہا کہ یہ دن بھارتی تاریخ اور آزادی کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے، کیونکہ وَندے ماترم صرف ایک گیت نہیں بلکہ آزادی کی تحریک کی روح تھا۔ گورو گگوئی نے کہا کہ ’’میں وَندے ماترم کی 150ویں سالگرہ پر ہو رہی اس اہم بحث میں حصہ لے رہا ہوں۔ بنگال کی مقدس زمین میں ایک عظیم طاقت ہے۔ یہی زمین ہمیں قومی ترانہ اور قومی گیت دونوں عطا کرتی ہے۔ اس دور کے شاعروں اور ادیبوں نے ایسے گیت تخلیق کیے، جنہوں نے آزادی کے مجاہدین کو انگریزوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت دی‘‘۔
انہوں نے یاد دلایا کہ آزادی کی جدوجہد کے دنوں میں کئی نعرے اور گیت تھے، جنہوں نے انقلابیوں میں ولولہ پیدا کیا۔ گگوئی نے زور دیا کہ کانگریس پارٹی نے ہی وَندے ماترم کو قومی گیت کا درجہ دیا۔ گورو گگوئی نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1905 میں بنارس میں ہونے والے کانگریس اجلاس میں وَندے ماترم کا عوامی مظاہرہ ہوا تھا، جس نے بھارتی عوام میں خوداعتمادی اور حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ ’’میں نے وزیراعظم کا خطاب غور سے سنا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ یہ دکھانا چاہتے ہوں کہ ان کے سیاسی آباؤ اجداد برطانوی حکومت کے خلاف سیدھی لڑائی میں شامل تھے۔ ان کے بیانات سے تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش جھلکتی ہے‘‘۔
گگوئی نے کہا کہ وزیراعظم ہر خطاب میں پنڈت نہرو کا نام لیتے ہیں، لیکن جتنی بھی کوشش کریں، پنڈت نہرو پر ایک بھی داغ نہیں لگایا جا سکتا۔ کانگریس رکن نے وضاحت کی کہ وَندے ماترم برطانوی حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی علامت تھا اور اس کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ ہندوستانی نہ ڈریں گے اور نہ جھکیں گے۔ انہوں نے بی جے پی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کے سیاسی آباؤ اجداد ’بھارت چھوڑو تحریک‘ میں کہاں تھے؟ اس وقت آپ کس تحریک میں شامل تھے‘‘؟
گورو گگوئی نے زور دیا کہ کانگریس ہمیشہ وَندے ماترم کے اصل مقصد اور جذبے کا احترام کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی اسی اصول پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وَندے ماترم کی تاریخی اہمیت اور اس کے آزادی کی تحریک میں کردار کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ یہ گیت بھارتی عوام کی اجتماعی طاقت اور اتحاد کی علامت رہا ہے۔







