
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھارت کے تاریخی دورے سے قبل ایک نیوز چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وہ یادگار لمحہ تازہ کیا جس نے دنیا کے سامنے بھارت اور روس کے دیرینہ تعلقات کو ایک نئے، زیادہ انسانی اور جذباتی انداز میں پیش کر دیا تھا۔ یہ وہی لمحہ تھا جب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور پوتن اچانک ایک ہی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے تھے۔ اس غیر رسمی سفر کی تصاویر اور ویڈیوز نے عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ حاصل کی اور دونوں لیڈروں کے ذاتی اعتماد کو نمایاں کیا۔ پوتن نے اس انوکھے لمحے کے بارے میں کہا کہ اس وقت ’ہم بس دو دوست تھے‘۔ نہ کوئی پہلے سے طے شدہ پروگرام تھا، نہ کوئی پروٹوکول۔ یہ سفر مکمل طور پر قدرتی، خود رو اور بے ساختہ تھا، جس نے بھارت اور روس کی شراکت داری کو محض حکومتی سطح کے بجائے ذاتی رشتے کی گرمی سے بھی جوڑ دیا۔
پوتن نے بتایا کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد وہ باہر نکلے تو ان کی گاڑی قریب موجود تھی۔ عین اسی وقت وزیراعظم مودی بھی باہر آئے، جس پر پوتن نے مسکراتے ہوئے انہیں ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی۔ دونوں لیڈر گاڑی میں بیٹھ گئے اور تِیانجِن کے راستوں پر یہ غیر رسمی گفتگو جاری رہی۔ پوتن کے مطابق سفر کے دوران باہمی تعاون، توانائی، عالمی حالات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر کھل کر تبادلۂ خیال ہوا۔ یہاں تک کہ جب وہ ہوٹل پہنچے تو دونوں کچھ دیر تک کار میں ہی بیٹھے رہے اور بات چیت جاری رکھی۔ پوتن کے مطابق، ’’یہ ایک سادہ، دلکش اور بے تکلف لمحہ تھا، جس میں کوئی رسمی دیوار نہیں تھی‘‘۔
تِیانجِن میں ہوا یہ غیر متوقع سفر دنیا کے لیے خاص اس لیے بنا کہ ایسی گرمجوشی عالمی سفارت کاری میں شاذ ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست، توانائی کے دباؤ اور تجارتی کشیدگی کے دور میں دو بڑے لیڈروں کا اس طرح ایک ساتھ بیٹھنا دوطرفہ اعتماد کا واضح پیغام تھا۔ اس منظر نے عالمی میڈیا میں بھی جگہ بنائی اور کئی تجزیہ کاروں نے اسے بھارت–روس تعلقات کی ’’انسانی گہرائی‘‘ قرار دیا۔
یہ واقعہ اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب پوتن اپنا 2021 کے بعد پہلا بھارت دورہ کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے 25 سال مکمل ہونے کا بھی موقع ہے۔ دفاع، توانائی، سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی امور پر کئی اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ بھارت اور روس کے درمیان دہائیوں پر محیط بھروسے اور شراکت داری کے پس منظر میں پوتن کا یہ بیان دونوں ممالک کے تعلقات کی گرمجوشی اور گہرائی کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ کبھی کبھی سفارت کاری کے سب سے مضبوط پیغام رسمی بیانات سے نہیں، بلکہ ایسے غیر رسمی، دوستانہ اور بے ساختہ لمحات سے سامنے آتے ہیں۔







