
نئی دہلی: عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگ نے بھارت کے دیوالیہ پن کے حل کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی رینکنگ بڑھا کر ’گروپ-سی‘ سے ’گروپ-بی‘ کر دیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا ہے کہ ملک میں دیوالیہ پن و قرض نادہندگی کے معاملات سے نمٹنے کا موجودہ ڈھانچہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور قرض دہندگان کے لیے سازگار ہو گیا ہے۔
ایس اینڈ پی نے اپنے بیان میں کہا کہ انسالوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ (آئی بی سی) نے بھارت میں قرض نظم و ضبط کو مضبوط کیا ہے۔ اس نظام کے تحت فیصلہ سازی کا جھکاؤ صاف طور پر قرض دہندگان کے حق میں دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اب کاروباری گروپوں کے لیے اپنے اثاثوں اور کمپنیوں پر کنٹرول کھونے کا خطرہ زیادہ ہو گیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کے دیوالیہ پن حل کے فریم ورک کی تشخیص تبدیل کی گئی ہے اور اسے ’کمزور‘ کے بجائے ’درمیانی درجے کا مؤثر نظام‘ قرار دیا گیا ہے۔ ایس اینڈ پی کا کہنا ہے کہ آئی بی سی کے نفاذ کے بعد کامیاب قرض حل کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، وقت کی پابندی بہتر ہوئی ہے اور بیک وقت ریکوری ریٹ میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایس اینڈ پی کے مطابق دیوالیہ پن حل کے دوران بقایاجات کی اوسط وصولی 15 تا 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد سے بھی اوپر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح، پہلے جہاں قرضوں کے حل میں 6 سے 8 سال لگتے تھے، وہیں اب اوسط مدت گھٹ کر تقریباً دو سال رہ گئی ہے۔
تاہم، ایجنسی کا کہنا ہے کہ بہتری کے باوجود بھارت کا نظام اب بھی گروپ-اے اور گروپ-بی کے کئی ممالک سے پیچھے ہے۔ عالمی معیار کے لحاظ سے 30 فیصد کی ریکوری ریٹ کو اب بھی کم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، دو سال کی اوسط مدت کے باوجود دیوالیہ پن کارروائی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ متعدد معاملات میں قانونی پیچیدگیوں، ابتدائی درخواستوں کے مرحلے اور حل منصوبوں کے نفاذ میں تاخیر کے باعث کارروائی طویل ہو جاتی ہے۔ ایس اینڈ پی نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر یہی اصلاحات جاری رہیں تو بھارت کا دیوالیہ پن کے حل کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے مستقبل میں مزید بہتر ہو سکتا ہے اور عالمی درجہ بندی میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گی۔







