
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو قدرتی کھیتی کو بھارت کے زرعی مستقبل کی مضبوط بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ کسانوں کی پیداوار اور آمدنی بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے یہ بات لنکڈاِن پر شائع اپنے ایک تفصیلی مضمون میں کہی، جس میں انہوں نے حال ہی میں کوئمبٹور میں منعقدہ ’’نیچرل فارمنگ سمٹ‘‘ میں اپنی موجودگی اور اس کے تجربات کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ اگست میں تمل ناڈو کے کسانوں کا ایک وفد ان سے ملا تھا، جس نے انہیں فطرت سے ہم آہنگ کھیتی کے نئے تجربات سے آگاہ کیا۔ اسی دوران انہیں کوئمبٹور میں ہونے والے اس اہم سمٹ میں شرکت کی دعوت ملی، جس میں وہ 19 نومبر کو خود شریک ہوئے۔ کوئمبٹور ، جو ایم ایس ایم ای ہب کے طور پر مشہور ہے، اس بار جنوبی بھارت میں قدرتی کھیتی کے سب سے بڑے اجلاس کی میزبانی کر رہا تھا۔
وزیراعظم مودی کے مطابق قدرتی کھیتی بھارتی روایتی حکمت اور جدید ماحولیاتی اصولوں کے امتزاج پر مبنی ہے۔ اس میں کیمیائی کھادوں کے استعمال کے بجائے کھیت کی حیاتیاتی تنوع، پودوں، درختوں اور مویشیوں کے باہمی رشتے پر توجہ دی جاتی ہے۔ ملچنگ، ہواداری اور کھیت کے فضلے کے دوبارہ استعمال کے ذریعے زمین کی زرخیزی بڑھائی جاتی ہے۔ سمٹ میں شریک کسانوں کے تجربات نے وزیراعظم کو خاص طور پر متاثر کیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ زرعی سائنس داں، ایف پی او لیڈرز، روایتی کسان، پہلی نسل کے گریجویٹ کسان اور بڑی تنخواہ والی نوکریاں چھوڑ کر کھیتی میں لوٹنے والے افراد—سب ایک ساتھ قدرتی کھیتی کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایک ایسے کسان کی مثال دی جو 10 ایکڑ میں کیلا، ناریل، پپیتا، کالی مرچ اور ہلدی کی ملٹی لیئر فارمنگ کر رہے ہیں اور جن کے پاس 60 دیسی گائیں، 400 بکریاں اور مقامی نسل کی مرغیاں موجود ہیں۔ ایک اور کسان میپّلئی سامبا اور کروپّو کوونی جیسے دیسی چاول کی اقسام کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ان سے صحت بخش مصنوعات جیسے ہیلتھ مکس، پفڈ رائس، چاکلیٹ اور پروٹین بار تیار کر رہے ہیں۔ ایک پہلی نسل کے گریجویٹ کسان 15 ایکڑ کے قدرتی فارم کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں، 3,000 سے زیادہ کسانوں کو تربیت دے چکے ہیں اور ہر ماہ 30 ٹن سبزیاں سپلائی کرتے ہیں۔ بعض ایف پی اوز نے کساوا پر مبنی مصنوعات کو بایوایتھنول اور کمپریسڈ بایو گیس جیسی پائیدار صنعتوں میں شامل کیا ہے۔ ایک بایوٹیک ماہر نے سی ویڈ پر مبنی بایو فرٹیلائزر تیار کیا ہے جس سے ساحلی اضلاع کے 600 ماہی گیر روزگار پا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ برس شروع کیا گیا ’’قومی قدرتی کھیتی مشن‘‘ لاکھوں کسانوں کو جوڑ چکا ہے اور ہزاروں ہیکٹر زمین اس طریقۂ کھیتی پر منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان کریڈٹ کارڈ، پی ایم کسان، برآمداتی سہولیات اور مویشی و ماہی پروری کے لیے مالی معاونت جیسی اسکیمیں بھی کسانوں کو مضبوط کر رہی ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین بڑی تعداد میں قدرتی کھیتی اپنا رہی ہیں اور ’’شری انّ‘‘ یعنی ملیٹس کے فروغ سے بھی کھیتی میں نیا رجحان پیدا ہوا ہے۔ آخر میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ کوئمبٹور میں کھیتی، سائنس، صنعت کاری اور کمیونٹی انرجی کا سنگم مستقبل میں بھارتی زراعت کو زیادہ پائیدار اور منافع بخش بنائے گا۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ اگر وہ قدرتی کھیتی کے میدان میں جاری کسی نئی کوشش یا ٹیم سے واقف ہوں، تو اس کی معلومات ضرور بھجوائیں۔







