
نگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے ملک بھر میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ ان کی جلد صحت یابی کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں دعاؤں اور عبادات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران بی این پی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سینئر رہنما مرزا عباس نے ایک بڑا اور سنگین دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عوامی لیگ حکومت کے دورِ اقتدار میں جیل میں قید کے دوران خالدہ ضیا کو ‘سلو پوائزننگ’ یعنی آہستہ اثر کرنے والا زہر دیا گیا تھا۔
یہ دعویٰ بنگلہ دیشی میڈیا ‘یو این بی’ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ میڈیا کے مطابق مرزا عباس نے کہا کہ خالدہ ضیا کی بیماری فطری نہیں بلکہ ایک غیر معمولی کیفیت ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”بیگم خالدہ ضیا کی موجودہ بیماری قدرتی نہیں ہے۔ جیل میں رہتے ہوئے انہیں سلو پوائزن دیا گیا تھا، جس کے اثرات آج بھی ان کی زندگی کو خطرناک حد تک متاثر کر رہے ہیں“۔
مرزا عباس بنگلہ دیش فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے آڈیٹوریم میں ’روپوشی بنگلا فوٹوگرافی ایگزیبیشن اینڈ کمپٹیشن‘ کے انعامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ہر گھر میں خالدہ ضیا کی صحت کے لیے دعا کی جائے۔ انہیں جمہوریت، آزادی اور ملکی خودمختاری کے لیے اپنی ثابت قدمی اور غیرمتزلزل موقف کے سبب ظلم اور شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا“۔
عباس نے بتایا کہ انہوں نے جمعہ کی شب ایور کیئر اسپتال میں خالدہ ضیا سے ملاقات کی۔ ان کے مطابق ”وہ ایک ایسی لیڈر ہیں جنہیں عوام بے حد پیار کرتی ہے اور جنہوں نے جمہوریت کی جنگ ڈٹ کر لڑی۔ میں دوبارہ درخواست کرتا ہوں کہ ان کے شفایاب ہونے کے لیے دعا کی جائے“۔ واضح رہے کہ اس سے قبل عالمی شہرت یافتہ ماہر معاشیات اور موجودہ عبوری حکومت کے مشیر محمد یونس کے حکم پر خالدہ ضیا کے قانونی مشیر ان کی صحت جانچنے اسپتال پہنچے تھے۔ واپس آکر انہوں نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ خالدہ ضیا کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور اب تک کوئی بہتری نظر نہیں آئی۔
دوسری جانب ان کے بڑے بیٹے اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان نے فیس بک پر اپنی والدہ کے لیے ایک جذباتی پیغام تحریر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ “اس مشکل گھڑی میں میں بھی ہر بیٹے کی طرح اپنی ماں کے پیار بھرے لمس کو ترس رہا ہوں۔ لیکن بہت سے دوسروں کی طرح میرے پاس بھی اس خواہش کو پورا کرنے کی آزادی نہیں ہے“۔ طارق رحمان نے مزید کہا کہ اس حساس معاملے پر کھل کر بات کرنے کی گنجائش محدود ہے۔ ان کے مطابق “ہمارے خاندان کو امید ہے کہ جب سیاسی حقیقتیں واضح ہوں گی تو میرے وطن واپسی کے طویل اور کربناک انتظار کا خاتمہ ہو جائے گا“۔







