
روس کے صدر ولادیمیر پوتن 4-5 دسمبر کو بھارت آ رہے ہیں۔ یہ دورہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر ہو رہا ہے اور اسے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس دوران تیل کی خریداری، دفاعی تعاون اور تجارت جیسے بڑے معاملات پر گفتگو ہوگی۔
پوتن کا دورہ اہم کیوں ہے؟
پوتن کے اس دورے کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ اس وقت بھارت اور امریکہ کے تعلقات نازک مرحلے میں ہیں۔ امریکہ نے روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے بھارت پر ٹیریف عائد کیا تھا اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کئی بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ بھارت کو روس سے تیل خریدنا بند کرنا چاہئے۔ اس کے باوجود بھارت مسلسل روس سے تیل خرید رہا ہے۔ ایسے میں پوتن کا بھارت آنا اسٹریٹجک نقطہ نظر سے بہت اہم مانا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی سے ملاقات
اپنے دورے کے دوران پوتن وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ صدر دروپدی مرمو اُن کے اعزاز میں ڈنر کا اہتمام کریں گی۔ دو طرفہ بات چیت میں توانائی، دفاع اور تجارتی تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ حال ہی میں روس گئے تھے
حال ہی میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر روس گئے تھے۔ اس دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ پوتن جلد بھارت کا دورہ کریں گے۔ جے شنکر کے دورے کے چند دن بعد ہی اب پوتن کا بھارت آنا دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی امید بڑھا رہا ہے۔ گزشتہ سال وزیر اعظم مودی بھی دو بار روس گئے تھے۔ جولائی 2024 میں انہوں نے دو روزہ دورہ کیا تھا اور اکتوبر میں BRICS سمٹ میں شرکت کے لئے روس پہنچے تھے۔ اسی دوران مودی نے پوتن کو بھارت آنے کی دعوت دی تھی۔اب پوتن کا یہ دورہ بھارت اور روس کے تعلقات کو نئی سمت دینے والا ثابت ہو سکتا ہے۔





