
شمالی ہند میں سردی اب پوری طرح دستک دے چکی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں درجہ حرارت میں شدید گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث کئی ریاستوں میں اچانک سردی کا احساس اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات (IMD) نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دو سے تین دنوں تک کئی علاقوں میں کپکپاہٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ماہرین خاص طور پر صحت کے معاملے میں احتیاط برتنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
پہاڑوں پر پارہ نقطۂ انجماد سے نیچے
شمالی ہند کے میدانی علاقوں— دہلی، پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور اتر پردیش میں سرد ہواؤں کا اثر صاف نظر آنے لگا ہے۔ جبکہ اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر کے بالائی علاقوں میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا گیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ کسی بھی وقت تیز ہو سکتا ہے، جس سے سردی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ میدانی علاقوں میں بھی کہرے کا اثر دکھائی دینے لگا ہے۔ IMD کے مطابق آنے والے دنوں میں کئی ریاستوں میں گھنا کہرا چھا سکتا ہے، جس سے حد ِنگاہ کم ہوگی اور سڑکوں پر ٹریفک کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔
دہلی میں صبح کی ٹھٹھرتی سردی اور آلودگی کی دوہری مار
دارالحکومت دہلی میں صبح ہلکا کہرا رہا، لیکن سردی کا زور گزشتہ دنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ محسوس ہوا۔ ہوا میں خنکی اور بڑھتی آلودگی نے شہریوں کی روزمرہ کی زندگی پر بھی اثر ڈالا ہے۔ صبح کے وقت پارکوں میں چہل قدمی کرنے والوں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ لوگ سردی اور اسموگ دونوں سے بچنے کے لیے صبح جلدی باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اگرچہ دوپہر میں دھوپ نکلنے سے کچھ حد تک راحت ملتی ہے، لیکن یہ راحت صرف وقتی ثابت ہو رہی ہے۔ جیسے ہی شام ڈھلتی ہے، سردی دوبارہ پوری شدت کے ساتھ لوٹ آتی ہے اور لوگ سویٹر اور کمبل میں دبک جانا پسند کرتے ہیں۔ IMD کے مطابق آج دہلی میں 8 سے 19 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں، جس سے محسوس کی جانے والی سردی میں مزید اضافہ ہوگا۔
آنے والے دنوں میں سردی مزید بڑھنے کے آثار
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شمالی ہند کی کئی ریاستوں میں رات اور صبح کے درجہ حرارت میں 3 سے 4 ڈگری کی مزید کمی ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ ہریانہ، پنجاب اور راجستھان میں سرد ہواؤں کا زور مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ راجستھان کے سیکر، چورو اور بیکانیر جیسے شہروں میں پارہ 4 ڈگری تک گر سکتا ہے۔
کشمیر میں برفباری کے امکانات
کشمیر وادی سمیت ہماچل اور اتراکھنڈ میں مسلسل برفباری کا امکان برقرار ہے۔ کشمیر کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت پہلے ہی منفی میں پہنچ چکا ہے، جس سے مقامی لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔







