
نئی دہلی: حزب اللہ کے کمانڈر ہیثم علی طباطبائی اسرائیل کی دفاعی فورس (آئی ڈی ایف) کے ایئر اسٹرائیک میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ حزب اللہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ آئی ڈی ایف نے بھی طباطبائی کی موت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اس کارروائی کا حکم اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دیا تھا۔
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے اتوار کی شب اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف ہیثم علی طباطبائی کے ہلاک ہونے پر کہا، ’’میں وزیر اعظم، وزیر دفاع، چیف آف اسٹاف، کابینہ، سیکورٹی فورسز اور اس آپریشن میں شامل تمام افراد کو مبارکباد دیتا ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اسرائیل شمالی سرحد پر خطرے کو ختم کرنے کے لیے ضرورت کے مطابق کارروائی کرتا رہے گا اور علاقے کے رہائشیوں سمیت تمام اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کی ضمانت دے گا۔ یہ آپریشن ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ حزب اللہ سے آنے والے کسی بھی خطرے کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔
حزب اللہ نے کی طباطبائی کی موت کی تصدیق
حزب اللہ نے بھی اسرائیلی ایئر اسٹرائیک میں اپنے ملٹری چیف طباطبائی کی موت کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیل کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد حزب اللہ کی طرف سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ حزب اللہ نے طباطبائی کے علاوہ چار دیگر آپریٹوز کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے، جن میں ابراہیم علی حسین، رفعت احمد حسین، مصطفی اسد بارو اور قاسم حسین برجاوی شامل ہیں۔ لبنان کے وزارت صحت نے کہا کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 28 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
مؤثر شخص کے طور پر جانے جاتے تھے ہیثم
طباطبائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تنظیم کے ملٹری آپریشنز میں برسوں تک شامل رہنے کے باعث حزب اللہ کی رینک میں اوپر چڑھے اور ملٹری میں ایک تجربہ کار اور مؤثر شخص کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔
آئی ڈی ایف نے ہیثم کو نشانہ بنا کر کیا تھا حملہ
آئی ڈی ایف نے حزب اللہ کے چیف کو نشانہ بنا کر یہ حملہ کیا تھا۔ 2016 میں امریکہ نے طباطبائی کو سب سے زیادہ مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، اور ان پر 50 لاکھ کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔ 2023-24 میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے شدید حملوں میں آئی ڈی ایف نے حزب اللہ کے زیادہ تر افسران کو ہلاک کر دیا تھا۔







