
نوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں آج سے جی20 سربراہ اجلاس کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں شرکت کے لیے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی وہاں پہنچ چکے ہیں۔ وزیراعظم مودی اس اہم عالمی فورم میں تین بڑے سیشنز میں شرکت کریں گے، جہاں وہ عالمی معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم امور پر بھارت کی سوچ اور ترجیحات دنیا کے سامنے رکھیں گے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جی20 سیشنز کے تین بنیادی موضوعات مقرر کیے گئے ہیں۔ پہلا موضوع “جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی” ہے، جس میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ ترقی کے سفر میں کوئی ملک یا معاشرہ پیچھے نہ رہ جائے۔ اس عنوان کے تحت عالمی معیشت کی مضبوطی، تجارت کے کردار، ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور قرض کے بوجھ میں کمی جیسے نکات شامل ہیں۔
دوسرا اہم موضوع “ایک مضبوط دنیا کے لیے جی20 کی شراکت” ہے، جس میں قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز، صاف توانائی کے منصفانہ استعمال اور غذائی نظام کی بہتری جیسے اہم معاملات زیرِ بحث آئیں گے، کیونکہ دنیا اس وقت غیرمعمولی ماحولیات دباؤ اور توانائی بحران سے گزر رہی ہے۔
تیسرا موضوع “سب کے لیے منصفانہ اور محفوظ مستقبل” کے عنوان سے ہے، جس میں اہم معدنی وسائل تک منصفانہ رسائی، بہتر روزگار کے مواقع اور مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال جیسے موضوعات شامل ہیں۔ وزیر اعظم مودی اس حوالے سے بھارت کے تجربات اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے ماڈل پر بھی روشنی ڈالیں گے۔
جی20 اجلاس کے علاوہ وزیراعظم مودی کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز سے ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون، جوہری توانائی، تجارت اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے فروغ پر گفتگو ہوئی۔ ملاقات کے متعلق وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
وزیراعظم مودی IBSA لیڈرز میٹنگ میں بھی شرکت کریں گے، جو انڈیا، برازیل اور جنوبی افریقہ پر مشتمل اتحاد ہے اور یہ مسلسل چوتھا جی20 اجلاس ہے ،جو عالمی جنوب (Global South) کے تناظر میں منعقد ہو رہا ہے۔یہ کانفرنس عالمی تعاون اور مستقبل کی سمت طے کرنے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل مانی جا رہی ہے۔







