
دارالحکومت دہلی کی ہوا ہفتے کے روز ایک بار پھر زہریلی بنی ہوئی ہے۔ AQI صبح 439 تک پہنچ گیا، جو خطرے کے زمرے میں آتا ہے۔ سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق ہوا کی یہ کوالٹی انتہائی خطرناک ہے، اب حد سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہوا میں PM2.5 کے 294 مائیکروگرام اور PM10 کے 390 مائیکرو گرام کی موجودگی ہے۔ دہلی میں آج کم سے کم درجہ حرارت 12 ڈگری سیلسیس اور زیادہ سے زیادہ 25 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔ بادل صاف رہیں گے اور دھند اور کہرا صبح و شام نظر آئے گا۔
ہوا کے معیار میں بہتری کی کوئی امید نہیں
آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق اگلے تین چار دنوں تک ہوا کے معیار میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ واحد راحت یہ ہے کہ 27-28 نومبر کے بعد ہوا کی رفتار بہتر ہو سکتی ہے، جو آلودہ ہوا کو دور دھکیل سکتی ہے۔ ان کی عام رفتار 10-15 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہو سکتی ہے، جو آلودہ ذرات کو دھکیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بارش کی کوئی پیش گوئی نہیں ہے، اس لیے دسمبر کے پہلے ہفتے تک مکمل ریلیف متوقع ہے۔
بچوں اور بوڑھوں کے لیے الرٹ جاری
گریپ 3 کے بعد بھی دارالحکومت کی ہوا زہریلی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ بچوں، کمزور افراد اور سانس کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے خطرناک ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں کو گھر کے اندر ہی رہنا چاہیے۔
درجہ حرارت گرنے کا سلسلہ جاری
نومبر کے آخری ہفتے تک سردی کی شدت بڑھ جائے گی۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26 سے 27 ڈگری سینٹی گریڈ اور کم سے کم درجہ حرارت 12 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، جب کہ رات کے وقت اس میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔ صبح اور شام کے وقت دھند اور کررہے کی چادر بنی رہی گی ، جس سے حد نگاہ متاثر ہوگی۔ ہوا کی رفتار بہت سست ہے ،جس کی وجہ سے ہوا آلودہ رہے گی۔واضح رہے کہ دہلی حکومت نے آلودگی کو کم کرنے کے لیے گریپ-3 سمیت کئی اقدامات کیے ہیں، لیکن اے کیو آئی کی سطح اب بھی مسلسل خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔ لہذا، مشورے پر عمل کریں اور جب بالکل ضروری ہو تب ہی باہر نکلیں۔ اگر آپ کو باہر جانا ضروری ہے تو میٹرو، پبلک ٹرانسپورٹ، یا ای گاڑیاں استعمال کریں۔







