
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو گجرات کے ضلع بناس کانٹھا کے بھلڈی سے وزیر اعظم کسان سمان ندھی (پی ایم کسان) اسکیم کی 24ویں قسط جاری کی۔ اس کے تحت ملک بھر کے 9.34 کروڑ سے زیادہ کسان خاندانوں کے بینک کھاتوں میں 18,680 کروڑ روپے سے زائد کی رقم براہِ راست منتقل کی گئی۔ یہ رقم راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے کسانوں تک پہنچائی گئی۔ وزیر اعظم کی قیادت میں منعقدہ قومی سطح کے پی ایم کسان اُتسو دیوس پروگرام کے تحت یہ قسط جاری کی گئی۔ اس کا مقصد کسانوں کو فراہم کی جانے والی مالی امداد کو مزید مضبوط بنانا اور زرعی شعبے میں آمدنی کو سہارا دینا ہے۔ اس قسط سے گجرات کے کسانوں کو بھی بڑا فائدہ پہنچا۔ ریاست کے 52.33 لاکھ سے زیادہ کسان خاندانوں کے کھاتوں میں 1,051 کروڑ روپے سے زائد کی امدادی رقم منتقل کی گئی۔ گجرات کے وزیر زراعت جیتو واگھانی نے پروگرام کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو یہ اطلاع دی تھی۔ واگھانی کے مطابق، اسکیم کی پہلی 23 قسطوں کے ذریعے ملک بھر کے 11 کروڑ سے زیادہ کسان خاندانوں کو مجموعی طور پر 4.47 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ وہیں گجرات میں اب تک 69.26 لاکھ مستفید کسانوں کو 24,137 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھیجی جا چکی ہے۔
ملک بھر میں پروگراموں کا براہِ راست ٹیلی کاسٹ
پی ایم کسان کی 24ویں قسط جاری کیے جانے کے موقع پر ملک بھر میں مختلف پروگراموں کا براہِ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ گجرات میں کسانوں کی شرکت یقینی بنانے کے لیے 34 ضلع سطح کے پروگرام اور 2,100 سے زیادہ کلسٹر سطح کے اجتماعات منعقد کیے گئے۔ ان پروگراموں میں وزرا، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، عوامی نمائندوں، زرعی سائنس دانوں اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ اس دوران مستفید کسانوں کو زراعت اور باغبانی کے محکموں کی مختلف اسکیموں سے متعلق منظوری کے خطوط بھی دیے گئے۔ پی ایم کسان اسکیم کے تحت اہل کسان خاندانوں کو مقررہ وقفوں سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے انہیں زرعی سرگرمیوں اور گھریلو ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بناس کانٹھا میں زرعی اور مویشی پروری کے منصوبوں کا افتتاح
بھلڈی میں منعقدہ پروگرام کو ضلع بناس کانٹھا کے کئی زرعی اور مویشی پروری کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریبات سے بھی جوڑا گیا۔
ان منصوبوں میں 328.77 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہونے والا بھارت بووائن بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹر، بناس ڈیری کے تھراد اور رادھن پور میں مجوزہ دو کمپریسڈ بایو گیس پلانٹ، آلو کی پروسیسنگ یونٹ کی توسیع اور الٹرا ہائی ٹمپریچر مصنوعات کے لیے خودکار ذخیرہ اور بازیابی کا نظام شامل ہیں۔






